Muntazzir – A poem by Tahir

تم مجھ سے پوچھتے ہو آج کہ کیا کر رہا ہوں میں

کیے تھے فیصلے جو تلخ، نتائج بھر رہا ہوں میں

میں تھا انجاں،میں ہوں انجاں، رہوں انجاں ہئ شا ید

مگر اک ان کہی پروان بھرنے سے ڈر رہا ہوں میں

میں ہرپل سوچتا ہوں اڑ ہی جاوں ایک جنگل سے

اس کم ظرف،تپتے،دہکتے لوگوں کے چنگل سے

مگر کچھ راستہ شاید،میری انکھوں سے اوجھل ہے

کہ اب وہ راستہ پانےکی جستجو کر رہا ہوں میں

ہاں مانا کہ میں متلاشی ہوں اک اور ہی دنیا کا

شناسا ہوں میں حامی ہوں کسی نادر سے موقع کا

امید پہ دنیا قا ئم ہے تو یہ میرا بھروسا ہے

کہ میں نے آج تک اس زندگی کو رویا ہے نہ کوسا ہے

میں منتظر ہوں تو اس راستے کا ،جو پہنچا دے منزل تک

غروب آفتاب سے پہلےاور زباں خاموش ہونے تک

Advertisements

3 thoughts on “Muntazzir – A poem by Tahir

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s